اشاعتیں

اپریل, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
کیا پاکستان میں یہ ہلچل سیاسی ہے؟؟ جناب یہ سوال اس وقت اور ان دنوں ہر پاکستانی کے دماغ کو کھٹکھٹا رہا ہے ہمارے وطن عزیز پاکستان میں ان دنوں جو حالات ہیں سیاست دانوں اور سیاست کی تو ہر پاکستانی کو اس بارے میں تشویش ہے کہ کیا یہی سیاست ہے؟؟ حالانکہ ہم نے بڑے بڑے جنگوں کے حالات و واقعات پڑھے ہم نے دیکھا کہ ان جنگوں میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے تو جب جنگ کرنے والے انتہائی خون ریزی کو دیکھتے تو ان کو احساس ہوتا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں  تو وہ بالآخر جنگ سے بیزار ہو کر آپس میں بیٹھتے اور کہتے آئیں اس کا ایک سیاسی حل تلاش کریں تاکہ جانبین سکون کی زندگی جی سکیں، تو وہی لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کے لوگ قتل کئے ہزاروں لوگ کھوئے وہ بھی ساتھ بیٹھ کر ہنستے مسکراتے باتیں کرتے ہیں اور اس جنگ کو ختم کرنے کا کوئی حل نکالتے ہیں اور اس جنگ کو جو چیز ختم کر دیتی ہے اور اس کا ایک آسان اور باہمی حل نکال دیتی ہے اس کو سیاست کہتے ہیں بلکل  اسی طرح فاٹا وزیرستان اور بلوچستان کے حالات ہمارے سامنے تھے کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ پاکستان جیسے عظیم الشان ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اپنا وطن کہن...
مفتاح اسماعیل کے بیان پر جے یو آئی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری کا ردعمل۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل وفاقی وزیر کا امر بالمعروف اور طا ل بان کے تذکرے کے ساتھ سیاسی بیان غیر محتاط اور بے محل تھا، اسلم غوری، ترجمان جے یو آئی پاکستان  مفتاح اسماعیل اب ایک ذمہدار ملکی عہدے پر ھیں، انہیں غیر محتاط گفتگو سے مکمل اجتناب کرنا ھوگا، اسلم غوری عمران نیازی، مذھب کارڈ اپوزیشن کے خلاف استعمال کر رھا ھے اس میں کوئی شک نہیں مگر طال۔بان تو " امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے شعبے کو حقیقی معنوں میں اچھائی کی دعوت اور ںرائیوں کی روک تھام کے لیئے ایک کاز کے طور پر استعمال میں لاتے ھیں... اسلم غوری  مفتاح اسماعیل کو، عمران نیازی کی مخالفت کے کیئے سیاسی انداز اپنانا چاھیئے تھا۔۔۔۔ اسلم غوری   عمرانی سیاست کے فاشسٹ فلسفے پر ملک کے اندر بات کی جائے، غیر ممالک میں ملک کے مجموعی مفادات پر بات کی جانی چاھیئے ۔۔۔۔ اسلم غوری حکومت میں شامل تمام  ذمہداران دینی موضوعات پر بات کرتے ھوئے انتہائی محتاط رویہ اختیار کریں تاکہ مخالفین غیر محتاط گفتگو کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال میں نہ لاسکیں۔۔۔ اسلم غ...
تصویر
مستعفی پی ٹی آئی ارکان کا سرکاری گاڑیاں واپس نہ دینے کا انکشاف روزنامہ جنگ 22 اپریل ، 2022   "پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کے ساتھ ہی ان کی چیئرمین شپ بھی ختم ہوگئی مگر سہولیات تاحال ان چیئرمینز کے استعمال میں ہیں جو کہ غیرقانونی ہے۔ اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی  کے استعفوں کو دس روز گزر گئے لیکن سابق حکمران جماعت کے ایک درجن کے قریب ارکان چیئرمین قائمہ کمیٹیوں کے عہدوں پر تاحال براجمان ہیں۔ پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کے ساتھ ہی ان کی چیئرمین شپ بھی ختم ہوگئی مگر سہولیات تاحال ان چیئرمینز کے استعمال میں ہیں جو کہ غیرقانونی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے چیئرمین قائمہ کمیٹی کو 4 ملازمین اور گاڑی فراہم کی جاتی ہے، قومی اسمبلی کی ملکیت گاڑیاں تاحال پی ٹی آئی کے مستعفی چیئرمینوں کے استعمال میں ہیں۔  قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے گاڑیوں کی واپسی کے لیے جلد ان تمام سابق چیئرمینز و چیئر پرسنز سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے مستعفی چیئرمین و چیئرپرسنز سے گاڑیاں اور دیگر ضروری سامان واپس لیا جائے گا، قومی اسمبلی کا اسٹاف ان کے استعف...
تصویر
ہم کوئی غلام ہیں  ہم کوئی غلام ہیں  ہم کوئی غلام ہیں  ہم کوئی غلام ہیں  ہم کوئی غلام ہیں  "ہم کوئی غلام ہیں" عمران خان کا آج کل "ہم کوئی غلام ہیں " ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے اس ویڈیو کو بار بار چلایا جا رہا ہے اور یہ صرف اور صرف جذباتی عوام کے لیے کیا جا رہا ہے کہ ان کے جذبات کو ابھار کر اپنے مقاصد اور فوائد حاصل کیے جائیں.  خان صاحب سے ایک سوال پوچھنا ہے؟ جب آپ نے انڈیا کو سلامتی کونسل میں ووٹ دیا اس وقت اپ نے کیوں نہیں کہا کے "ہم کوئی غلام ہیں". عمران خان صاحب جب آپ  کلبھوشن کے لئے صدارتی آرڈیننس لے کے آئے کلبھوشن کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی  اس وقت آپ نے کیوں نہیں کہا کہ "ہم کوئی غلام ہیں" مودی نے دھمکی لگائی اور آپ نے پاکستان پر حملہ کرنے والے انڈین پائلٹ ابھینندن کو دوسرے ہی دن پروٹوکول  دے کے انڈیا کے حوالے کردیا اس وقت آپ نے کیوں نہیں کہا  " ہم کوئی غلام ہیں" انڈیا کی چار جاسوس جو پاکستان میں  کی جیلوں میں قید تھے عمران خان صاحب جب آپ نے ان کو انڈین فورسز کے حوالے کیا اس وقت آپ نے کیوں نہیں کہا...

Photo from Qalandrani

تصویر
بسمہ تعالیٰ *محنت،نوجوان اور جوانی* {فضل الرحمٰن جسکانی} وہ ایک معمولی گھرانے میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔تین سال تک اسے بولنا تک نہیں آتا تھا۔جب پہلی مرتبہ اسکول گیا تو اسے نا اہلی کے سبب خارج کر دیا گیا۔اسے ایک استاد نے کہا: He was a lazy dog یعنی وہ ایک سست کتا ہے۔بیس سال تک یہ عام بندہ تھا۔پھر اس نے دن دگنی رات چگنی محنت شروع کی۔بالآخر چھبیس سال کی عمر میں اس نے سائنس کے موضوع پر اپنی کتاب متعارف کرائی۔اس کے بعد گاہے بگاہے یہ اپنے دور کے عظیم سائنسدانوں کی صف میں شامل ہو گیا۔1933ع میں اس نے ہٹلر کے جرمنی کو خیر باد کہہ دیا۔جس کے وجہ سے ہٹلر نے کہا کہ جو اسے قتل کرے گا اسے حکومت بیس ہزار مارک دے گی۔لیکن اس کی علمی قابلیت و لیاقت کے سبب کسی نے مقررہ انعام وصول کرنے کی تگ و دو نہ کی۔یہ بیسویں صدی کے عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن تھے۔ دیکھیں انہوں نے جہد مسلسل کی۔وقت اور جوانی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی منزلِ مقصود کی جانب گامزن رہے۔آخر کار انہوں نے اپنا مقصود حاصل کر کے ہی دم لیا۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی کامیابی کے لیے بنیادی کردار محنت کا ہوا کرتا ہے۔اور بڑی کامیابی کے لیے پیدا...
تصویر
"جمیعت علمائے اسلام اور پاکستان تحریکِ انصاف" سیاست میں آنے کا مقصد ہوتا ہی اقتدار ہے سیاست میں آکر یہ بات کرنا کہ میں اقتدار کے لئے نہیں لڑ رہاتو یہ بات عقل کو گالی دینے کے مترادف ہے اگرچہ کوئی بھی ہو۔  مگر اقتدار کس مقصد کے لئے حاصل کیا جارہا ہے یہ بات ہم نے مد مقابل رکھنی ہے ایک شخص ہے جو اقتدار کی خواہش اپنے ذاتی مفاد کے لئے رکھتا ہے اور دوسرا شخص اقتدرا کی خواہش اس نیت سے رکھتا ہے کہ میں اقتدار کو حاصل کرکے اللہ کی دھرتی پر اللہ کا نظام رائج کروں گا تو ظاہر ہے معقول نظریات کے مطابق ہم دوسرے شخص کو پہلے شخص پر فضیلت دیں گے۔  مانتا ہوں کہ اچھے بُرے کا معیار ہر طبقہ میں ہوتا ہے مگر اکثریت کا بھی کوئی تقاضا ہوتاہے اور کسی جماعت یا پارٹی کی اکثریت ہی یہ فیصلہ کرنے کی تحریک میسر کرتی ہے کہ جماعت کن نظریات کی حامل ہے  موصوف نظریاتی بندہ فلسفی مزاج رکھنے کا حامل ہے ہاں وہ علیحدہ بات ہے کہ موصوف کا سیاسی جھکاؤ جمیعت علمائے اسلام کی طرف زیادہ ہے موصوف پر اعتراض کی بجائے وجہ دریافت کی جاسکتی ہے۔ وجہ نمبر۱: بندئہ ناچیز سیاست فلسفیانہ مزاج کے علاوہ مذہبی رجحان بھی رکھتا ہے اور یہ...
تصویر
اب یار یہاں میں بات کروں گا تو مجھے کہا جائے گا قوم پرستی کر رہے ہو میرے بھائی جب بھی کوئی بلوچستان کے شخص کو برا کرتے دیکھتے ہو تو ہمیں کہتے ہو یہ تمہارے لوگوں میں سے ہے لیکن جب ہمارے یہ لوگ اچھا کرتے ہیں اس وقت تم لوگ نابینا ہوجاتے ہو اگر تمہیں واقعی بلوچ سے اتنی تکلیف ہو تو مزید تکلیف دینے کے لئے اتنا بتا دوں بلوچ اتنا غیرت مند ہے الحمد للّٰہ کہ تاریخ گواہ ہے جب انگریز نے ہندوستان پر حکومت کی تو انگریزوں کی چمچہ گری کرنے والے ہر قوم کے لوگ تھے اور ان کے نام بھی آتے ہیں لیکن الحمد للّٰہ میری تاریخ مجھے فخر کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے آباء یعنی کوئی بھی انگریزوں کے چمچوں میں بلوچ نہیں تھا اور ہاں ہندوستان کے خطوں میں سے جس خطے سے انگریز سب سے پہلے بھاگا وہ بھی میرا پیارا بلوچستان تھا اگر میری یہ باتیں آپ لوگوں کو سچ نہ لگیں تو آپ لوگ کتابیں چاٹنے کے ماہر ہیں لیکن انشاء اللہ مجبورا آپ کو مجھے سچا کہنا پڑے گا لھذا مجھے اگر میری قوم کی برائی کا کوئی مزاق میں بھی طعنہ دے تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ اسی وجہ سے ریاض العلوم میں کئی بار اس معاملے پر ہماری شکایتیں ہیں کہ یہ قوم پرستی کرت...
تصویر
اپنے دور حکومت میں دوسرے ممالک سے فطرے مانگنے والے بھی دوسروں کے خلاف بھکاری بھکاری کا نعرہ لگاتے ہیں نیازی نے اپنے منافقت پر مبنی تقریروں سے یوتھیوں کو کس قدر بیوقوف بنایا ہے کہ یوتھیوں کے عقل بھی مائوف ہوچکے ہیں نہ کوئی بات سمجھ پاتے ہیں نہ سن پاتے ہیں اور نہ کچھ دیکھ پاتے ہیں ان کے پاس بیان کرنے کے لئے اپنا کوئی اچھا کارنامہ نہیں ہے صرف اتنا کھ دیتے ہیں عمران خان نے یہ بات کی کسی اور سیاستدان نے کئے ہیں میرے بھائی بڑی بڑی باتیں تو مجھ سے نا چیز بھی کر گزرتے ہیں لیکن اسے جو وزیر اعظم بنایا گیا تاکہ وہ کچھ کام کرے باتیں نہیں اگر اچھی اچھی باتیں کرنے والا ہی دنیا کا بہترین لیڈر ہوتا ہے تو شاید مجھ سے بڑا اس دنیا میں کوئی لیڈر نہیں🤣 یوتھیوں سے گزارش ہے عقل کو استعمال میں لائیں اور صرف تقریریں نہ سنیں بلکہ اعمال پر بھی نظر ڈالیں وہی عمران خان تھا جس سے ناموس رسالت کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کے ملک بدری کا مطالبہ کیا گیا تو اس کے نقصانات بیان کرنے لگ گیا  اور جب اس کے اقتدار کی بات آئی تو سرعام یورپ و امریکہ کو للکارنے لگ گیا  حالانکہ عمران خان اور اس کے پارٹی کے دوسرے لیڈرز اپن...