"جمیعت علمائے اسلام اور پاکستان تحریکِ انصاف"

سیاست میں آنے کا مقصد ہوتا ہی اقتدار ہے سیاست میں آکر یہ بات کرنا کہ میں اقتدار کے لئے نہیں لڑ رہاتو یہ بات عقل کو گالی دینے کے مترادف ہے اگرچہ کوئی بھی ہو۔
 مگر اقتدار کس مقصد کے لئے حاصل کیا جارہا ہے یہ بات ہم نے مد مقابل رکھنی ہے ایک شخص ہے جو اقتدار کی خواہش اپنے ذاتی مفاد کے لئے رکھتا ہے اور دوسرا شخص اقتدرا کی خواہش اس نیت سے رکھتا ہے کہ میں اقتدار کو حاصل کرکے اللہ کی دھرتی پر اللہ کا نظام رائج کروں گا تو ظاہر ہے معقول نظریات کے مطابق ہم دوسرے شخص کو پہلے شخص پر فضیلت دیں گے۔ 
مانتا ہوں کہ اچھے بُرے کا معیار ہر طبقہ میں ہوتا ہے مگر اکثریت کا بھی کوئی تقاضا ہوتاہے اور کسی جماعت یا پارٹی کی اکثریت ہی یہ فیصلہ کرنے کی تحریک میسر کرتی ہے کہ جماعت کن نظریات کی حامل ہے 
موصوف نظریاتی بندہ فلسفی مزاج رکھنے کا حامل ہے ہاں وہ علیحدہ بات ہے کہ موصوف کا سیاسی جھکاؤ جمیعت علمائے اسلام کی طرف زیادہ ہے موصوف پر اعتراض کی بجائے وجہ دریافت کی جاسکتی ہے۔
وجہ نمبر۱: بندئہ ناچیز سیاست فلسفیانہ مزاج کے علاوہ مذہبی رجحان بھی رکھتا ہے اور یہی ایک خاص وجہ ہے کہ موصوف کی جمیعت علمائے اسلام میں دلچسبی ہے۔
اوجہ نمبر ۲: کہ جمیعت علمائے اسلام میں  میں اکثریت اکابرین , علماء ,صلحاء, محدث, مبلغ ,مفکر,معلم, حافظ, قاری,خطیب,ادیب,دانشور,ولی,یہاں تک کہ غوث ,ابدال ,اور اہلِ کشف شخصیات بھی دیکھنے کو ملیں گی اگر آپ کی نظریں قابلیت رکھتی ہوں تو ۔ 
اور یہ موصوف کی دوسری وجہ ہے (ج ع ا) سے متاثر ہونے کی۔
وجہ نمبر ۳ :  (ج ع ا) پر آج تک کوئی مالی اور اخلاقی کرپشن ثابت نہیں ہوا جوکہ دیانتداری کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اب بات آتی ہے (ج ع ا ) کا مؤقف کیا ہے اگرچہ وقت کے ساتھ اور حالات و تجربات میں تغیر آنے سے انسان کے نظریات و خیالات میں تبدیلی ہو بھی سکتی ہے ۔
اور اس بات کا محاسبہ آپ اپنی ذاتی زندگی میں بھی کرسکتے ہیں۔

اور جمیعت علمائے اسلام کا سیدھا سادہ مؤقف یہی ہے کہ حکمت بصیرت کےساتھ اللہ کی دھرتی پر اللہ کے نظام کو قائم کرنا ہی ان کا مقصودِ اصلی ہے۔

اب (ج ع ا ) کے حسبِ اختلاف جو جماعتیں کھڑی ہیں ان کا بھی محاسبہ کر لیا جائے کہ ان میں اکثریت کن لوگوں کی پائی جاتی ہے ۔
اب بات کرتے پاکستان تحریکِ انصاف کی جو نام سے تو بڑی ہی متاثر کن جماعت ہے مگر کام سے اکثر فارغ ہی رہتی ہے۔
میں یہ نہیں لکھوں گا کہ ماضی کے چار سالوں میں ان کی کیا کارگردگی رہی بلکہ آج تہذیب پر بات ہوگی۔
 یہاں کسی کی تذلیل مقصود نہیں بس حقیقت سے آگاہی مقصود ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چئیرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان صاحب جن کی تقریر سنے تو ۱٠٠ میں سے
۲٠ فیصد میں میں اور میں ہوتا ۔
۳٠فیصد بد تمیزی بداخلاقی اور تمسخر اڑانا
۳٠فیصد جھوٹ پر مبنی مواد و منصوبات جو آج تک پائہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔
۲٠فیصد کوئی اچھی بات بھی کرلیتے ہیں۔
نوٹ : ساتھی اس پر توجہ فرمائیں کہ ہم نے تعریف کی ہے مگر اتنی ہی کی جتنی تعریف کے وہ قابل تھے ۔
جو شخص اپنے خیال اپنے وعدوں اور اپنی زبان کی آبروں کاپاس نہ رکھ سکا وہ شخص قوم کی آبروں کا پاس کس طرح رکھے گا۔

یہ تو (پ ت ا) کے چئیرمین صاحب تھے کارکنان تو اس سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔
آپ دیکھ لے کہ (پ ت ا) میں آپ کو اکثریت دین بیزار لوگوں کی ملیں گی پڑے لکھے جاہلوں کی ملیں  گی ماروی سرمد جیسی عورتوں اور روشن خیالی کے نام پر دین کا جنازہ نکالنے والی بیہودہ شخصیات کی ملے گی لبرلازم کی چاہ رکھنے والوں کی ملیں گی راہِ اعتدال کو پامال کرنے والوں کی ملیں گی بداخلاق بدتمیز مقدس شخصیات کا تمسخر اڑانے والوں کی ملے گی گالم گلوچ کرنے والوں کی ملے گی ۔
کہیں جاکر دوچار تمیزدار کارکن دیکھنے کو ملتے ہیں ورنہ اکثریت ان ہی بد تہذبوں سے بھری پڑی ہے۔
  مختصر یہ کہ :
خود میں فیصلہ فہمی کی استعداد پیدا کریں اور آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کو کہا کھڑا ہونا چاہئے ۔

  حسینیاز قلم: ہشام الحق 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان