اب یار یہاں میں بات کروں گا
تو مجھے کہا جائے گا قوم پرستی کر رہے ہو
میرے بھائی جب بھی کوئی بلوچستان کے شخص کو برا کرتے دیکھتے ہو تو ہمیں کہتے ہو یہ تمہارے لوگوں میں سے ہے لیکن جب ہمارے یہ لوگ اچھا کرتے ہیں
اس وقت تم لوگ نابینا ہوجاتے ہو
اگر تمہیں واقعی بلوچ سے اتنی تکلیف ہو تو مزید تکلیف دینے کے لئے اتنا بتا دوں
بلوچ اتنا غیرت مند ہے الحمد للّٰہ کہ تاریخ گواہ ہے جب انگریز نے ہندوستان پر حکومت کی تو انگریزوں کی چمچہ گری کرنے والے ہر قوم کے لوگ تھے
اور ان کے نام بھی آتے ہیں
لیکن الحمد للّٰہ میری تاریخ مجھے فخر کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے آباء یعنی کوئی بھی انگریزوں کے چمچوں میں بلوچ نہیں تھا
اور ہاں ہندوستان کے خطوں میں سے جس خطے سے انگریز سب سے پہلے بھاگا وہ بھی میرا پیارا بلوچستان تھا
اگر میری یہ باتیں آپ لوگوں کو سچ نہ لگیں تو آپ لوگ کتابیں چاٹنے کے ماہر ہیں
لیکن انشاء اللہ مجبورا آپ کو مجھے سچا کہنا پڑے گا
لھذا مجھے اگر میری قوم کی برائی کا کوئی مزاق میں بھی طعنہ دے تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے
کیونکہ اسی وجہ سے ریاض العلوم میں کئی بار اس معاملے پر ہماری شکایتیں ہیں
کہ یہ قوم پرستی کرتے ہیں
اگر چہ چنگاری دوسروں کی ہوتی ہے
اور ویسے بھی ہم اپنے قوم پر فخر کرتے ہوئے ٹھیک بھی لگتے ہیں
کیونکہ ہماری تاریخ ہی اتنی پیاری ہے اور الحمد للہ حال بھی کہ آج تک بلوچستان میں کسی سیاسی لیڈر کو بھی ہمت نہیں کہ وہ اپنے اسٹیج پر علماء کو گالی دے یا داڑہی پگڑی کی توہین کرے
اور آپ لوگوں کو تو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ اپنی قوم کی تعریف اور ہماری تضحیک کیونکہ تاریخ آپ کی تضحیک اور میری تعریف کرتا ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں