کیا پاکستان میں یہ ہلچل سیاسی ہے؟؟
جناب یہ سوال اس وقت اور ان دنوں ہر پاکستانی کے دماغ کو کھٹکھٹا رہا ہے
ہمارے وطن عزیز پاکستان میں ان دنوں جو حالات ہیں سیاست دانوں اور سیاست کی تو ہر پاکستانی کو اس بارے میں تشویش ہے کہ کیا یہی سیاست ہے؟؟
حالانکہ ہم نے بڑے بڑے جنگوں کے حالات و واقعات پڑھے
ہم نے دیکھا کہ ان جنگوں میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے تو جب جنگ کرنے والے انتہائی خون ریزی کو دیکھتے تو ان کو احساس ہوتا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں
تو وہ بالآخر جنگ سے بیزار ہو کر آپس میں بیٹھتے اور کہتے آئیں اس کا ایک سیاسی حل تلاش کریں
تاکہ جانبین سکون کی زندگی جی سکیں،
تو وہی لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کے لوگ قتل کئے ہزاروں لوگ کھوئے وہ بھی ساتھ بیٹھ کر ہنستے مسکراتے باتیں کرتے ہیں
اور اس جنگ کو ختم کرنے کا کوئی حل نکالتے ہیں
اور اس جنگ کو جو چیز ختم کر دیتی ہے اور اس کا ایک آسان اور باہمی حل نکال دیتی ہے
اس کو سیاست کہتے ہیں
بلکل
اسی طرح فاٹا وزیرستان اور بلوچستان کے حالات ہمارے سامنے تھے
کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ پاکستان جیسے عظیم الشان ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے
اپنا وطن کہنے کے لئے تیار نہیں تھے
انہیں بینچوں پر بٹھایا گیا
ان سے مشاورت کی گئی اور ان کو منوایا گیا کہ یہی پاکستان تمہارا وطن ہے
اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا گیا ان سے آئین بھی منوایا گیا ان کو ووٹ دینے کے لئے نکالا گیا
اور پھر انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کا لقب بھی دیا گیا
اگر چہ یہ سب ابتداء میں تو ایک ہی جماعت جمعیت علماء اسلام کی محنت تھی لیکن بعد میں یہ لوگ دیگر جماعتوں کو بھی پسند کرنے لگے
اور ووٹ دینے لگے
سیاست اسے کہتے تھے جو بندوق کو رکھ کر ہمیں قلم اور کاغذ اٹھواتا تھا
سیاست اسے کہتے تھے کہ جس میں مکے اور لات کی جگہ نظریہ سوچ اور فکر سے مقابلہ کیا جاتا
تو کیا آج کل میرے پاکستان میں جس ماحول کو سیاسی ماحول کا نام دیا جا رہا ہے
کیا وہ واقعی سیاسی ہے؟؟
اگر مجھ سے یہ سوال کریں گے تو میرا جواب نہ میں ہمارے سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر اتنی بہتان تراشیاں کیں ہیں اتنی گالیاں دیں ہیں
کہ اب یہ خود کو سیاسی کہیں میں اس کو نہیں مانتا
آج کل ملکی حالات کو اتنا سنگین کیا گیا ہے کہ دو مختلف پارٹیوں کے کارکن آپس میں بیٹھ کر گفتگو بھی نہیں کر سکتے سیاست پر
سیاست پر بات کرنے سے چند لمحوں میں کارکنان بھی ایک دوسرے کو گالیاں اور برے القابات دینے لگ جاتے ہیں
کہ بات ہاتھا پائی تک جا پہنچتی ہے
سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر اتنے جھوٹے الزامات لگائے ہیں
کہ ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں
کہ اگر خدانخواستہ ملکی سلامتی کا کوئی مسئلہ آ جائے
تو وہاں بھی وہ مل کر نہیں بیٹھ سکتے
اس وقت میرے ملک کے وہ حالات ہیں کہ لیڈر حضرات تو اپنی جگہ پارٹیوں کے کارکنان بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرپاتے
اگر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان لیگی کارکن جائے تو اسے اپنے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں
لیگیوں کے درمیان پی ٹی آئی کا کارکن جائے تو اس کو اپنے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں
کیا اب بھی آپ کہیں گے موجودہ حالات سیاسی ہیں؟؟
سیاست نام ہے عوام الناس کے اصلاح کا آپ سیاست کے نام پر کونسی اصلاح کر رہے ہیں
سیاست نام ہے جوڑنے کا آپ کیا جوڑ رہے ہیں
آپ کی سیاست نے تو ہر چیز کو توڑ رکھا ہے
پیچھے جائیں تو سقوط ڈھاکہ کسی کو نہیں بھولتا
آگے آئیں تو بلوچستان اور پختونخوا میں لگنے والے نعروں کو سن کر کلیجہ پھٹنے لگ جاتا ہے،
سیاستدانوں خدارا سیاست کرو جنگ مت کرو
اس ملک کو پہلے سے دھشتگردی فرقہ پرستی اور قوم پرستی نے دیمک کی طرح چاٹ دیا ہے تباہ کر دیا ہے
اب خدارا اس ملک میں سیاسی بحران پیدا کر کے اس ملک کو مزید نقصان نہ پہنچائیں یہ ملک ان چیزوں کو مزید برداشت نہیں کر سکتا
والسلام
حفیظ الرحمن قلندانی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں