حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کی ایک تحریر بارے وضاحت!
تحریر۔۔۔۔حافظ علی گل سندھی 

چند دن گزرے بندے نے مدارس دینیہ کے متعلق ایک تحریر لکھی تھی جس کا مرکزی خیال حضرت اقدس شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کی وہ گفتگو تھی جو آپ نے اپنے بخاری شریف کے سبق میں طلباء کرام سے فرمائی تھی 
    وہ گفتگو ہم تک پہنچنے تک کافی متغیر ہوچکی تھی یا شاید ہم سے سمجھنے میں کوتاہی ہوئی بہرحال دونوں صورتوں میں ہم حضرت شیخ الاسلام صاحب مدظلہ العالی سے معذرت خواہ اور شرمندہ ہیں 
     ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ ہم جیسا کمترین فقیر نالائق جو تین میں نہ تیرہ میں اس کی لکھی چند سطریں حضرت شیخ الاسلام صاحب کی بارگاہ میں شرف حاصل کریں گی اور اس سے بڑھ کر حضرت شیخ الاسلام صاحب کا اسے توجہ دینا ۔۔۔
   ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب گیارہ محرم الحرام کی صبح سویرے ہمیں عزیزم مولانا آصف شاہ صاحب نے اطلاع دی کہ حضرت شیخ الاسلام صاحب نے ہماری تحریر کا نوٹس لے لیا ہے اور حضرت شیخ الاسلام صاحب کے تلمیذ رشید شیخ الحدیث مفتی محمد عرفان صاحب کے ہاں ہماری پیشی ہے 
جلدی جلدی تیار ہوکر جامعہ دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈوالہ یار مولانا آصف شاہ صاحب کی خدمت میں پہنچے اور وہاں سے حضرت مفتی محمد عرفان صاحب کے ہاں جامعہ صدیق اکبر کے دفتر اہتمام۔
       حضرت مفتی محمد عرفان صاحب نے بہت محبت سے سمجھایا کہ آپ چونکہ عالم  نہیں ہو اس لیے علماء کرام کی مشاورت سے لکھا کریں انہوں نے ہمیں حضرت شیخ الاسلام صاحب کی وائس بھی سنائی جو انہیں حضرت شیخ الاسلام صاحب نے واٹس اپ کی تھی 
اس وائس میں حضرت شیخ الاسلام صاحب وضاحت فرما رہے تھے کہ میں اپنے درس بخاری میں یوں کہا کرتا ہوں کہ اگر ایک مدرسہ معیاری کہیں موجود ہو تو اس جگہ دوسرا مدرسہ نہیں بنانا چاہئے یا اگر کوئی شخص معاشی مشکلات کے سبب کل وقتی مدرس نہیں بن سکتا تو کم از کم جز وقتی ہی تدریس سے وابستہ ہو جائے یا کم از کم درس قرآن وغیرہ کی ترتیب ہی بنا لے ،
سچی بات ہے حضرت شیخ الاسلام صاحب کی یہ وضاحت سن کر ہم شرم سے پانی پانی ہوگئے کیونکہ ہم نے تو حضرت کی طرف منسوب کر کے یہ تک لکھ دیا تھا کہ اب مدارس کی ضرورت نہیں اور کل وقتی تدریس کے بجائے جز وقتی تدریس کو ترجیح دینی چاہیے
اللہ اللہ اس تھوڑے سے تغیر سے مفہوم میں کتنا فرق ہوگیا اور حضرت اقدس شیخ الاسلام صدر الوفاق مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کی طرف کیسی غلط نسبت ہوگئی 
ہم بتا نہیں سکتے کیا حالت تھی دل چاہا زمین پھٹے اور اس میں دھنس جائیں ۔
      اس وقت تمنا ہوئی کاش حضرت شیخ الاسلام صاحب سے بالمشافہ پیروں میں گر کر معافی مانگ سکوں 
یہ تمنا کچھ ایسے دل کی گہرائی سے نکلی کہ رحمن و رحیم پروردگار نے اسی وقت قبولیت کی مہر لگادی
مفتی عرفان صاحب فرمانے لگے آج حضرت شیخ الاسلام صاحب کی مجلس بھی ہے اور جانے کا ارادہ بھی 
ہم نے فورا ساتھ جانے کی تجویز رکھی اور عزیزم مولانا آصف شاہ صاحب نے اپنی کارگاڑی سفر کے لیے پیش کردی 
یوں اچانک ہی ایک بابرکت سفر شروع ہوا جو ہمارے لئے مستقبل قریب میں بہت سی سعادتوں اور خیر کثیر کا سبب بننے والا تھا 
دوران سفر استاد محترم مفتی محمد عرفان صاحب اور مولانا آصف شاہ صاحب کی علمی فکر انگیز گفتگو نے جہاں قلب و زہن کے دریچوں کو کشادہ کیا وہیں مفتی عرفان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی علمی زندگی کے نشیب و فراز اور زاتی تجربات کی حکایات سن کر روح کو تسکین ملی
دارالعلوم کراچی پہنچ کر حضرت شیخ الاسلام صاحب کی مجلس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی زندگی میں پہلی بار حضرت کے اتنا قریب بیٹھے اپنی خوش قسمتی پر ناز کررہا تھا کہ مجلس کے اختتام پر نماز مغرب سے فراغت کے بعد جب حضرت دارالعلوم کی مسجد کے محرابی دروازے سے محافظوں کے پہرے میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تو مفتی عرفان صاحب نے حضرت سے مصافحہ فرمایا حال احوال کے بعد مفتی عرفان صاحب نے اس عاجز کی طرف اشارہ فرمایا اور حضرت کو وہ تحریر یاد دلائی 
    اللہ اللہ کیا منظر تھا ہمارا دل عجیب طرح دھڑکا ، حضرت شیخ الاسلام صاحب نے نظر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا ہم بھیگتی آنکھوں کے ساتھ حضرت کی طرف لپکے 
معانقہ فرمایا حضرت کے ہاتھوں کو بوسہ دیا 
حضرت نے کمال شفقت سے کندھوں پر تھپکی دی اور پدرانہ شفقت اور محبت بھرے لہجے سے فرمایا 
     " ارے بھائی ہمارے بارے میں لکھو یا ہماری طرف منسوب کرو تو کم از کم تصدیق تو کرلیا کرو ہمیں دکھا لیا کرو "
   اللہ اللہ کیا میٹھا لہجہ جیسے شیرینی بھری ہوئی ہو
روح تک تازہ ہوگئی 
اس ملاقات کے بعد تو یوں سمجھئے کہ ہم پر تو رقت طاری ہوگئی اور کتنی دیر تک آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے یہ اس خوشی کے آنسو تھے کہ ہم جیسا نالائق کم عمل،کم تر،جاھل،نااہل آدمی اور دنیا میں سب سے کم تر بندے کو یوں آغوش میں لیا جیسے کوئی بچہ جب دنیا بھر کی ٹھوکریں کھا کر ماں کی آغوش میں آتا ہے تو دنیا بھر کا سکون اسکو میسر آجاتا ہے
آخر میں مَیں انتہائی شکر گزار ہوں دنیا کی محبوب ترین ہستی حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا کہ باوجود کرب و تکلیف کے ہمیں ایسا پیار دیا جس کو زندگی بھر بھلایا نہیں جاسکتا اسکے بعد شیخ الحدیث مفتی محمد عرفان صاحب کا جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکالا اور بہت ہی مشکل کے بعد حضرت سے ملاقات کروائی جو زندگی بھر کا ایک نہ بھولنے والا باب ہے اور اسکے بعد عزیزم مولانا محمد آصف شاہ صاحب کا جنہوں نے ہر قدم پر ہماری رہنمائی کی اور ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر کراچی لے گئے اور ہمیشہ رہنمائی فرماتے رہتے ہیں الله کریم تمام حضرات کے علم میں عمل میں دین اور دنیا میں برکتیں نصیب فرمائے 
اس تحریر کو پڑھنے والے ہر شخص سے ہم دست بستہ درخواست کرتے ہیں کہ اتنی بڑی شخصیت شیخ الاسلام صاحب کی طرف منسوب وہ غلط مضمون درست کرنے میں ہمارا ساتھ دیں اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ اس غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے
شیخ الاسلام کے نام
آپ کہاں میری ذات کہاں
یہ لب اور انکی بات کہاں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان