سائیں اشرف عظیم انسان




قومی عوامی تحریک کے سینیئر رہنما 

اور ہمارے علاقے حیدرآبار گدو ناکہ کے عظیم انسان اس علاقے کے سب سے خیر خواہ انسان ہر موڑ پر اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے آواز اٹھاتے تھے 

اور ہر  چھوٹے بڑے کی نظر میں میرے رب نے ان کو بڑی عزت عطا کی تھی 

اور یہ خود ایسے نیک دل انسان تھے کہ جب بھی کسی سے ملتے  تو بڑی شفقت و محبت سے مصافحہ کرتے تھے

ویسے میرا مشاہدہ ہے کہ ہر شخص کے کچھ مخالف بھی ہوتے ہیں 

لیکن یہ ایک ایسے انسان تھے ہم نے کہیں بھی ان کی مخالفت بھی نہیں دیکھی 

لیکن آج ہمیں الوداع کھ کر اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے 

اور ہمارے علاقے کا ہر شخص ان کے جانے کے بعد اپنے آپ کو لاوارث سمجھ رہا ہے 

حقیقت بھی یہی ہےکہ آج واقعی میں ہمارا علاقہ لاوارث ہوگیا

اور تو اور سائیں ایک اسکول ٹیچر بھی تھے اگر ان کی استادی کی بات کی جائے تو یہ ایسے شفیق استاد تھے کہ ان کا ہر شاگرد ان سے بے حد محبت کرتا تھا 

ویسے ایک عام سی بات ہے کہیں بھی اگر شاگرد اپنے استاد کو دیکھتے ہیں تو وہاں سے بھاگ جاتے ہیں

خاص کر اسکولوں کے شاگرد 

لیکن میری نظر میں یہ ایک واحد ایسے  استاد تھے جن کو دیکھ کر ان کے شاگرد ان کے ارد گرد جمع ہوتے تھے

اور جب بھی یہ گھر سے باھر آتے تو شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو سائیں کو دیکھے اور سائیں کے قریب نہ آئے اس کی وجہ یہی تھی کہ سائیں ہر کسی کو محبت دے کر ان سے دعائیں حاصل کرتے تھے

اور آج انہی شفقتوں اور محبتوں سے ہم سارے علاقے والے محروم ہو گئے

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں اللہ تعالی سائیں کی مغفرت فرما کر ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے؛ 

تحریر حفیظ الرحمن قلندرانی

تبصرے