ولی اللہ کس کو کہتے ہیں ؟
تحریر۔۔۔۔۔حافظ علی گل سندھی 


فرمایا ھادیء عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے "اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جس کے چہرے کو دیکہنے سے اللہ یاد آجائے"
آج کل پوری دنیا میں بالعموم اور برصغیر میں بالخصوص جو پیری مریدی کی رسم چل پڑی ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔جاہل پیر جو سال میں ایک نماز بھی نہیں پڑھتے اور کئی تو ایسے ہوتے ہیں جن کو غسل کا طریقہ بھی نہیں آتا ہوگا لیکن وہ جاہل لوگوں کو پیر و مرشد بن کر دونوں ھاتھوں سے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔نہ شرعی لباس،نہ تقوی،نہ پرھیز گاری،نہ علم،نہ حلم،نہ حیا،نہ غیرت،نہ خوداعتمادی بس دوچار جادوئی کتابیں پڑھ لیں،کچھ جِن اپنے ساتھ ملا لئے اور پیر بن کر اپنی ڈیڑھ انچ کی خانقاہ بنالی اور یہ نعرہ مستانہ لگا دیا( نہ مسجد ہاں نہ مندر ہاں،میں ہر صورت دے اندر ہاں)اور کسی مسلمان کو دیکھا تو السلام علیکم کہ دیا،کسی ملنگ کو دیکھا تو یاعلی مدد کا نعرہ لگادیا،کسی ھندو کو دیکھا تو رام رام کہ دیا اسلیے تو کسی نے کہا تھا کہ (با مسلماں اللّٰہ اللّٰہ،با برھمن رام رام)بس جو کوئی بھی ہو،ہمیں پیسا چاہیے۔
مولانا عبدالغفور قاسمی رحمہ اللّٰہ فرمایا کرتے تھے کہ "مجھے کسی نے کہا کہ مولوی صاحب میری بیوی کی طبیعت خراب ہے مجھے پانی پر دم کرکے دو،مینے کہا میری بیوی بیمار ہوئی تو مینے ہسپتال میں داخل کروایا،اور تیری بیوی میرے دم اور پانی سے ٹھیک ہو جائے گی" ؟
فرماتے تھے کہ"تیری نظر پانی کے شیشے میں ہے کہ کب مُلّا دم کرتا ہے اور مُلّا کی نظر تیرے کِھیسے(جیب) میں ہے کہ کب دس روپے نکالتا ہے"۔
پیری مریدی سے انکار نہیں ہے۔اور ہمارے اوپر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ تم (وھابی)لوگ 
پیروں کو نہیں مانتے 
لیکن ہم کہتے ہیں کہ جو حقیقی اللّٰہ والا ہو،سنت و شریعت کا پابند ہو،ہم اسکی جوتیاں اپنے سر پر سجانے کو تیار ہیں،ہم انکے غلام بننے میں خوشی محسوس کریں گے لیکن جاہل پیروں اور شریعت سے ناواقف پیروں کے نام پر دھبہ لوگوں سے بیزار ہیں۔
ولی اللہ کس کو کہتے ہیں ؟
ایک اللّٰہ والے نے فرمایا کہ "اگر آپ دیکھیں کہ ایک آدمی۔ پرندوں کی طرح فضا میں اڑتا ہوا آرہا ہے لیکن سنت پر عمل پیرا نہیں ہے تو اسکو ٹھکرادو،وہ اللّٰہ کا ولی نہیں،شیطان ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ کے متعلق کتابوں میں آتا ہے کہ انکے ایک معتقد نے حضرت کو مسجد میں کچھ پیسے لاکر پیش کیے،حضرت نے انکار کردیا تو وہ صاحب اٹھا اور حضرت کی جوتیوں میں وہ پیسے ڈال دیے،حضرت جب مسجد سے نکلے تو جوتیوں میں پیسے دیکھ کر فرمانے لگے واقعی جو دولت کو ٹھکراتا ہے اللہ پاک دولت کو ذلیل کرکے اسکے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔
اور ولی اللّٰہ بننا کوئی آسان عمل نہیں ہے یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے،یہ کوئی چوں چوں کا مربّہ نہیں ہے اسکے لئے اپنے نفس کو مارنا پڑتا ہے،اپنے آپ کو کَھپانا پڑتا ہے،جوانی دیوانی مستانی میں نفسانی خواہشات کو پس پشت ڈال کر اپنے اللہ سے لَو لگانی پڑتی ہے،راتوں کو نرم گرم بستروں کو چھوڑ کر، حسین و جمیل بیوی کو چھوڑ کر،سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر اپنی پیشانی کو تھجد کے سجدوں سے رگڑنا پڑتا ہے،نہ کہانے کی پرواہ نہ پینے کی پرواہ،اطراف و اکناف سے یکسو ہوکر اللہ اللہ کی دُہن لگانی پڑتی ہے۔پہر جاکر کوئی منزل ملتی ہے۔
ہمارے مرشد سیدی و مرشدی مولانا محمد ادریس السندھی (اللّٰہ انکو صحت عطا فرمائے)کو اللہ تعالیٰ نے آج جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے وہ یونہی نہیں ملا،بلکہ اس کیلئے ہمارے حضرت نے اپنے نفس کو مارا ہے،جوانی کی عمر میں جب آدمی اپنی غذاء کا بہت زیادہ خیال رکھتا ہے،تین وقت روٹی کھاتا ہے ہمارے حضرت اس وقت ایک روٹی کو چار ٹکڑے کرتے تھے ان میں سے تین ٹکڑے واپس کرتے تھے جبکہ آخری ٹکڑا کھاتے تھے جو کہ بمشکل دو یا تین لقمے بنتے ہیں۔اور ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ میرے والد محترم حضرت کے شاگردوں میں سے ہیں۔جوانی کی عمر میں حضرت آٹھ سے دس کلومیٹر روزانہ پیدل سفر کرکے صبح ہمارے گاؤں آتے اور بچوں کو قرآن مجید کا سبق پڑھا کر پہر واپسی پیدل اپنے گاؤں جاتے تھے۔جو جوانی دیوانی مستانی انسان کو غلط راستے پر ڈالتی ہے حضرت نے اس وقت اپنے آپکو دین کی تبلیغ کے لیے وقف کردیا تھا۔اسلیے آج اللہ پاک نے انکو وہ مقام عطا فرمایا ہے کہ دنیا حیران ہے۔اللہ پاک نے ہمارے حضرت کی زبان میں یہ تاثر رکھا ہے کہ بات کتنی بھی مشکل ہو،لیکن حضرت والا اسکو آسان اور سہل انداز میں بیان فرمادیتے ہیں،بعینہ کوئی بات کتنی مرتبہ کیوں نہ سنی ہوئی ہو لیکن حضرت والا کی زبانی سن کر نیا ہی لطف محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح آپ دیگر حضرات کو بھی دیکھتے ہونگے،ہر کسی کے اوقات مقرر کیے ہوئے ہیں لیکن ہمارے حضرت کے پاس جب بھی آپ جائیں گے تو وہ آپکو خوش آمدید کہنے کیلئے منتظر پائیں گے۔
میں ایک مرتبہ حضرت سے ملنے گیا تو حضرت کسی کام میں مصروف تھے جب مجھے دیکھا تو فوراً پوچھا کہ کسی نے کوئی اکرام کیا ہے ؟
مینے نفی میں سر ہلاتے ہوئے عرض کیا کہ سائیں اسکی ضرورت نہیں ہے لیکن میری طرف توجہ دیے بغیر خود اٹھے اور پہلے خدام سے مخاطب ہوئے اور انکو ذمہ داری میں کوتاہی کا احساس دلا کر خود کھجور لاکر مجھے دی اور اسکے بعد حال احوال لیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم مردہ پرست لوگ ہیں جب کوئی شخصیت ہمارے پاس موجود ہوتی ہے تو ہم اسکی قدر نہیں کرتے لیکن جب وہ نعمت ہم سے چِہن جاتی ہے تو پہر ہائے افسوس کرتے ہیں لیکن اس وقت ہائے افسوس کرنا کسی کام کا نہیں ہوتا۔
اور یہی وہ لوگ ہیں جنکے متعلق مفسر قرآن مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللّٰہ فرمایا کرتے تھے کہ "اللہ والوں کی جوتیوں میں وہ موتی ملتے ہیں جو بادشاہوں کے تاجوں میں بھی نہیں ملتے"۔
آجکل ہمارے حضرت کی طبیعت کافی ناساز ہے،مریدین،معتقدین و محببین سے خصوصی دعاؤں کی درخواست کی جاتی ہے۔
اللہ پاک ہمارے حضرت کو شفائے کاملہ صحت عاجلہ مستمرہ دائمہ نصیب فرمائے اور حضرت کی شفقت کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم فرمائے اور حضرت کے فیض سے خوب مستفیض ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان