بسمہ تعالیٰ

آزادی کی داستاں

 

یہ ریل گاڑی دہلی سے مسافر لیے لاہور پہنچی ہے۔ہائے یہ بیچارے مسافر ! ان کی حالتِ زار دیکھ کر اور داستانِ سفر سن کر دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔دورانِ سفر کئی پارسا خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں،کئی بچے بوڑھے اور نوجوان تعصب کی بھینٹ چڑھا دیے گئے،کتنی خواتین بیوہ اور کتنے ہی معصوم بچے یتیم ہو گئے،ان المناک اور کربناک حالات سے ہوتی ہوئی یہ ٹرین لاہور پہنچی ہے،ٹرین سے خون نالوں کی طرح بہہ رہا ہے۔لوگ انگلی منہ میں ڈالے حیران و پریشاں ہیں کہ ان مسافروں کو ہوا کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو موت کے منہ میں ڈال دیا؟ سو بھیّا! یہ 14 اگست 1947 کا دن ہے اور یہ مسافر ہندوستانی مسلمان ہیں،یہ محض اس لیے ہندوستان سے نکلے کہ پاکستان معرضِ وجود میں آ چکا ہے،بانیانِ پاکستان کے مطابق پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک اسلامی مملکت کے طور پر قائم ہوا ہے؛جس میں مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی،نیز یہ نعرہ بھی زبان زد عام ہو چلا ہے! "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔" ہندوستان سے ہجرت کا مقصدِ اصلی یہی تھا کہ یہ مسلمان ہندؤں،سکھوں اور دیگر اسلام دشمنوں کے ظلم و ستم سے نکل کر آزادی سے اپنی زندگی اسلامی طرز پر گزار سکیں اور اسلامی تعلیمات کو بہ آسانی حاصل کر سکیں؛انہی وجوہات کی بنا پر یہ مسلمان اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر لاہور پہنچے ہیں۔

_______________________

بانیانِ پاکستان اور مسلمانوں کی پے در پے کوششوں اور قربانیوں سے ہمیں پاکستان کے نام سے موسوم یہ آزاد خطہ نصیب ہوا؛جو یقیناً صرف مسلمانوں کے لیے اسلامی ملک کے طور پر قائم ہوا تھا،جس پر تاریخِ پاکستان شاہد ہے۔جنگ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے مسلمانوں پر پہلے سے کئی گنا زیادہ مظالم ڈھائے۔غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔پاک و ہند میں تعصب کی آگ لگا دی گئی۔جگہ جگہ ہندو مسلم فسادات سر اٹھانے لگے۔آزادی کی آواز کا سد باب کرنے کے لیے علماء کرام کو شہید کر دیا گیا۔ان مظالم کے باوجود مسلمان پیچھے نہ ہٹے۔بعد ازاں مسلم لیگ نے ایک علیحدہ ملک کے لیے دو قومی نظریہ پیش کیا اور اس کے لیے جدوجھد شروع کر دی۔قائد اعظم محمد علی جناح،شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال،مولانا شبیر احمد عثمانی وغیرہ اور عام مسلمانوں نے پاکستان کے لیے انفرادی و اجتماعی طور پر سعی و کوشش شروع کر دی۔علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی کی روح پھونکی اور نوجوانانِ ملت کو گرمایا۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ  امراء   کے  در  و  دیوار  ہلا  دو
گرماؤ  غلاموں کا لہو  سوزِ یقیں سے
کنجشک فرو مایہ کو شاہیں سے لڑا دو

_______________________

تحریک پاکستان کے لیے علماء کرام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔سرحد (موجودہ کے پی کے)اور سلہٹ کے ریفرنڈم کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی رح اور مولانا ظفر احمد عثمانی رح نے پیرانہ سالی کے باوجود جلسے جلوسوں اور تقریروں کے ذریعے  سرحد اور سلہٹ کا ووٹ پاکستان کے حق میں دلوایا،جس پر قائد اعظم اور لیاقت علی خان نے ان حضرات کو داد دی۔علاوہ ازیں سب سے پہلے ایک علیحدہ مملکت کا تصور 1928 میں تھانہ بھون کی ایک خانقاہ میں بیٹھے اپنے وقت کے عظیم دینی مُصلح حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے پیش کیا۔حضرت تھانوی نے فرمایا:

''جی یوں چاہتا ہے کہ ایک خطے پر خالص اسلامی حکومت ہو،سارے قوانین اور تعزیرات وغیرہ کا اجرا احکام شریعت کے مطابق ہو،بیت المال ہو،نظامِ زکوٰۃ رائج ہو،شرعی عدالتیں قائم ہوں،دوسری قوموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے یہ نتائج کہاں حاصل ہو سکتے ہیں؟اس مقصد کے لیے صرف مسلمانوں ہی کی جماعت ہونی چاہیے اور ان کو یہ کوشش کرنی چاہیے۔"

_______________________

آج کا سیکیولر طبقہ پاکستان کے اسلامی مملکت کے طور پر وجود میں آنے کا انکار کرتا ہے اور تاریخ پاکستان میں علماء کرام کے کردار کو عوام الناس سے مخفی رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہے۔پاکستان کو اسلامی ریاست کے طور پر قائم کرنے کے سوا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے؛کیونکہ موجودہ حالات کی نسبت برطانوی سامراج میں لوگوں کو سہولیات زیادہ میسر تھیں۔بلاشبہ پاکستان کا مقصد صرف اور صرف ایک اسلامی ریاست کے طور پر تھا،جس پر بانیانِ پاکستان کے ارشادات واضح دلیل ہیں۔چنانچہ قائد اعظم محمد علی جناح نے جون 1945 میں فرمایا:

''پاکستان کا منشا صرف آزادی نہیں بلکہ اسلامی نظریہ ہے جو ایک بیش بہا عطیے اور خزانے کی حیثیت سے ہم تک پہنچا ہے۔"

اسی طرح نومبر 1945 میں انہوں نے کہا کہ:
''مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ضابطہ حیات اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں۔"

_______________________

چنانچہ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ 75 سال گزرنے کے باوجود وطنِ عزیز جس مقصد کے لیے بنا تھا آج تک ہم اسے حاصل نہیں کر سکے،جس پر پاکستانی مسلمان افسردہ ہیں۔اسے حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔یقیناً پاکستان ایک بہترین جغرافیہ کا حامل خطہ ہے۔جسے بیشتر قدرتی وسائل میسر ہیں۔فلک بوس پہاڑی سلسلے،ہرے بھرے جنگلات،لق و دق صحرا،نیلگوں پانی سے بھرے دریا اور سمندر پاکستان کے لیے ایک گراں مایہ نعمت اور حسن و جمال کا سبب ہیں۔انہیں بروئے کار لا کر پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی صلاحیت و لیاقت رکھتا ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کا راز چار چیزوں پر منحصر ہے:- ۱:مضبوط معیشت، ۲:مضبوط دفاع، ۳:قانون کا نفاذ، ۴:قومی اتحاد۔لہذا ہمیں اپنے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے ان اصول و ضوابط کو اپنانا ضروری ہے،اور یہ سب اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہی ممکن ہوگا۔ہمیں فرقہ واریت،قومیت اور لسانیت سے کنارہ کشی کر کے قانون کی بالادستی اور باہمی اتحاد و اتفاق سے وطنِ عزیز کی خدمت کرنی ہے،تاکہ وطنِ عزیز جہاں بھر میں ایک عظیم ترقی یافتہ اسلامی ریاست بن سکے،بس یہی دعا ہے:

سوہنی دھرتی
 سوہنی دھرتی
اللّٰہ رکھے 
قدم قدم آباد ،
تیرا ہر اک ذرہ ہم کو جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے 
سوہنی دھرتی 
سوہنی دھرتی،
اللّٰہ رکھے
 قدم قدم آباد،

🇵🇰🇵🇰🇵🇰

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان