اشاعتیں

اگست, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
بسمہ تعالیٰ آزادی کی داستاں   یہ ریل گاڑی دہلی سے مسافر لیے لاہور پہنچی ہے۔ہائے یہ بیچارے مسافر ! ان کی حالتِ زار دیکھ کر اور داستانِ سفر سن کر دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔دورانِ سفر کئی پارسا خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں،کئی بچے بوڑھے اور نوجوان تعصب کی بھینٹ چڑھا دیے گئے،کتنی خواتین بیوہ اور کتنے ہی معصوم بچے یتیم ہو گئے،ان المناک اور کربناک حالات سے ہوتی ہوئی یہ ٹرین لاہور پہنچی ہے،ٹرین سے خون نالوں کی طرح بہہ رہا ہے۔لوگ انگلی منہ میں ڈالے حیران و پریشاں ہیں کہ ان مسافروں کو ہوا کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو موت کے منہ میں ڈال دیا؟ سو بھیّا! یہ 14 اگست 1947 کا دن ہے اور یہ مسافر ہندوستانی مسلمان ہیں،یہ محض اس لیے ہندوستان سے نکلے کہ پاکستان معرضِ وجود میں آ چکا ہے،بانیانِ پاکستان کے مطابق پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک اسلامی مملکت کے طور پر قائم ہوا ہے؛جس میں مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی،نیز یہ نعرہ بھی زبان زد عام ہو چلا ہے! "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔" ہندوستان سے ہجرت کا مقصدِ اصلی یہی تھا کہ یہ مسلمان ہندؤں،سک...
تصویر
فتنہ کی علامت یہی ہوتی ہے کہ اس کے چال اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور دیکھا جائے تو اس وقت عمران خان نیازی اور پی ٹی آئی بلکل یہی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں  عمران خان اپنی تقریروں میں خود کو پٹھان بلا کر پشتونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے، اور اپنے خاندان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمارا خاندان شروع سے پنجاب میں رہا ہے اور ہم پنجابی ہیں اس طرح کی باتیں کر کے پنجاب کے ہلکے قوم پرستوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے اور خود کو میانوالی کا نیازی کھ کر پنجاب میں رہنے والے سرائیکی قوم پرستوں کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے  اور اپنی ماں کو کراچی کی رہائشی اور مہاجر کھ کر خاص طور پر مہاجر قوم پرستوں کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے، اور دوسری طرف دیکھا جائے تو اس کا منافقانہ طرز عمل بھی ایسا ہے کہ ایک طرف پاکستان کے لبرل اور سیکولر طبقے کو بھی اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے، فواد چودھری اور شیریں مزاری جیسے سیکولرز کو اپنے ساتھ بٹھا کر ان سے مذہبی احکام کے خلاف بیانات کروا کر سیکولرز کو خوش کئے ہوئے ہے اور دوسری طرف دین کی ہلکی پھلکی سمجھ رکھنے وا...