عامر لیاقت انتقال کر گئے 

یہ خبر جتنا کہیں اس سے کئ گنا زیادہ افسوسناک ہے
کیونکہ ڈآکٹر عامر لیاقت صاحب پاکستان کے شہرت یافتہ شخصیات میں سے ایک ہیں
انہوں نے اپنی طرز گفتگو سے صحافیوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا جہاں ان سے کوئی مشکل سوال کیا جاتا وہاں یہ اپنے مزاحیہ انداز میں ایک ایسا جواب دیتے کہ ان کے سامنے موجود شخص کا سوال قہقہوں میں ہی اڑ جاتا
اور اپنی ذہانت اور زبان کی تیزی سے اپنے مخالف کو ایک لفظ نہ بولنے دیتے اگر کہوں وہ اپنے مخالف کی بے انتہا تذلیل کرتے تھے
تو میں غلط نہ ہوں گا
لیکن ان کے انتقال کے بعد اس قوم میں دو فریق ہوگئے ہیں
ایک فریق ان کی مدح بیان کرتے ہوئے نظر آرہی ہے اور دوسری فریق ان کی ھجوء بیان کرتے ہوئے نظر آرہی ہے
میں بھی کبھی سوچتا ہوں ان کی ھجوء بیان کرنی چاہئے یا مدح 
جب میں ان کی مدح کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری نظر سے ان کی ایک پرانی ایسی کلپ گزرتی ہے جس میں وہ معاذ اللہ صحابہ کرام کی معاذ اللہ توہین کرتے نظر آتے ہیں
میں ان کی مدح بیان کرنے لگتا ہوں تو مجھے نظر آتا ہے کہ اس شخص نے میرے علماء کی میرے عقیدے کی تذلیل کی ہے
میں اس کی مدح بیان کرنا چاہتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ اس شخص نے صرف اور صرف شہرت حاصل کرنے کے لئے کئی روپ اختیار کئے صبح سویرے عالم دین بن کر علماء کی۔ تذلیل کرتا نظر آتا ربیع الاول میں بریلویت کا روپ دھارے دیگر علماء پر طنز کرتا اور محرم کے مہینے میں شیعہ بن کر صحابہ کی توہین کرتے نظر آتا
اور اگر میں اس کی ھجوء بیان کرنے لگوں تو یہ شخص مجھے عاشق رسول دکھایا جاتا ہے
ختم نبوت کے بارے میں اس کے درد بھرے الفاظ سنائی دیتے ہیں
مجھے اس کی وہ کتاب دکھائی جاتی ہے کہ اس نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضہ کی شان میں خوبصورت الفاظ سے بھرے ایک کتاب تحریر کی جس کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا مقدمہ انہوں نے جنت البقیع میں امی عائشہ کے قدموں میں بیٹھ کر لکھا 
اب ان سب چیزوں کو دیکھ کر میں کیا کہوں کہ انہوں کی ھجوء بیان کی جائے یا پھر مدح 
تو اس تحریر کو پڑہنے والے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ اس کی نہ ھجوء بیان کریں اور نہ ہی مدح بلکہ خاموش رہ کر اپنے کام کریں
کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے خدا سے معافی مانگ لی ہو اور خدا غفور رحیم نے معاف کیا ہو
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسی حال میں دنیا سے چلا گیا ہو
ان کی زندگی کی ان دونوں پہلوؤں کو دیکھ کر ہمارے لئے سب سے بہتر چیز خاموش ہوجانا ہے
اور تو اور ہم وہ لوگ ہیں اس مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں
جس میں ہلکے سے شبہے پر حدود و قصاص بھی ساقط ہوجاتے ہیں
مجرم و ملزم چاہے کتنے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں
اور ہم لوگ آکر سوشل میڈیا پر کسی کے جنتی اور جہنمی ہونے کا فیصلہ کرنے لگیں
تو میں سمجھتا ہوں یہ بھی ہمارے لئے ہمارے معاشرے کے لئے ایک المیہ ہے

اللہ پاک ہمیں ایسی باتیں کرنے سے بچائے جن کی وجہ سے ہمیں کل کو شرمندگی کا سامنا ہو
اور جناب عامر لیاقت اس طرف روانہ ہو چکے ہیں جہاں ان کا حساب ہونا ہے جو غلط کیا اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتے ہیں جو صحیح کیا اس کو بھی جانتے ہیں
ہمیں چاہئے ان مدح یا مذمت کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کریں
اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کے ساتھ بہتری کا معاملہ فرمائیں
جاک اللہ خیرا

تحریر حفیظ الرحمن قلندرانی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان