*جہالت کی شبِ دیجور اور روشن چَراغ*


*{فضل الرحمٰن جسکانی}*

جب سے باری تعالیٰ نے اس کارخانہ عالم کو وجود بخشا تب سے اس میں تغیرات ہوتے چلے آ رہے ہیں۔یہ سلسلہ رکنے اور تھمنے والا نہیں۔رہتی دنیا تک یہ سلسلہ عروج پاتا یا زوال پذیر ہوتا رہے گا۔لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ شروع سے اس جہاں میں ترقی دیکھی گئی ہے۔آئے دن نئی ایجادات و اختراعات اس کا واضح ثبوت ہیں۔جن کے ذریعے سہولیات زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو چلا ہے۔اس ترقی میں علوم و فنون،مطالعہ،انسانی لگن اور جذبات کا بڑا عمل دخل ہے۔اگر یہ لگن اور جذبات ماند پڑ جائیں تو ہمیں پتھر کے زمانے اور گدھا اور گھوڑے کی سواری اختیار کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔چنانچہ انہی جذبات کی بنا پر تعلیمی اداروں اور جامعات میں لوگوں کو مختلف علوم و فنون سے آشنا کرایا جاتا ہے۔یہ ادارے طلبہ کو محض بنیاد فراہم کرتے ہیں،جبکہ ان پر عمارت کھڑی کرنا یہ طلبہ کے سر ہے۔اب طالب علم بنیاد کے بعد اگر علم و فہم اور مطالعہ کتب سے تعلق چھوڑ دے تو چار و ناچار بنیاد خود ہی زمین بوس ہو جائے گی۔لہذا اس بنیاد پر مضبوط و مستحکم اور فلک بوس عمارت قائم کرنے کے لیے مطالعہ کتاب نا گزیر ہے۔


مطالعہ لفظِ طلوع سے نکل کر آیا ہے،جس کے عام فہم معانی مخفی چیز کا ظہور پذیر ہونا ہے۔یعنی جس چیز سے آپ انجان اور ناواقف ہیں،مطالعہ کرنے سے آپ اس چیز سے واقف ہو جائیں گے۔ہمیں مطالعہ کا اگرچہ ذوق و شوق نہیں لیکن یہ مطالعہ ہماری ضرورت ہے۔مطالعہ کامیابی کا ایک اہم زینہ ہے۔آپ ورق گردانی کر کے دیکھ لیں تو معلوم ہوگا کہ اسلافِ امت اور کامیاب شخصیات مطالعہ کی رسیا تھے۔حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں! میری صحبت سے میری خلوت بہتر ہے،لیکن خلوت میں تنگی کا خدشہ ہے،اس لیے اس میں اچھی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔مشہور حنفی فقیہ حضرت امام محمد رحمہ اللہ کے احوال میں آتا ہے کہ آپ کتابوں کے درمیان بیٹھ جاتے اور مطالعہ میں اس قدر مستغرق اور منہمک ہو جاتے کہ زبان سے بولنا گوارا نہ کرتے،بوقتِ ضرورت اشارے سے جواب دیتے،اس پر مستزاد یہ کہ آپ نے اہل خانہ کو کہہ رکھا تھا کہ باہر کے امور و معاملات میں مجھے نہ بھیجا کریں،بلکہ میرے مقرر کردہ خادم کو کہہ دیا کریں۔آپ کو والد کی وراثت میں تیس ہزار درہم ملے جن میں سے پندرہ ہزار علمِ نحو و شعر پر جبکہ بقیہ پندرہ ہزار علمِ حدیث اور فقہ پر خرچ کر دیے۔


دورِ حاضر کی زندہ مثال حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو دیکھ لیجیے،آپ فرماتے ہیں! عرصہ دراز سے کچھ ایسے حالات میں گرفتار ہوں کہ مطالعہ کے لیے ترستا ہوں،اگر پانچ منٹ بھی مل جائیں تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ان واقعات سے آپ کو یقیناً اندازہ ہو گیا ہوگا کہ علمائے امت کو مطالعہ سے کس درجے تک دل بستگی اور شگفتگی رہی ہے۔شاعر کہتا ہے؛

دنیا کے ہر ہنر سے ہے افضل مطالعہ
کرتا  ہے  آدمی  کو   مکمل   مطالعہ 

آج ہم ذرا اپنے معاشرے پر اُچٹتی نظر ڈالیں تو چار سُو عوام الناس کو علم و مطالعہ اور قلم و قرطاس سے دور پائیں گے۔گزشتہ زمانے میں لوگ علم کی جستجو کے لیے کئی میل اسفار کرتے اور جہاں سے علم کا سراغ لگتا وہاں پروانہ وار ٹوٹ پڑتے۔مشہور فلسفی ابو نصر فارابی کہتے ہیں کہ میرے پاس روشنی کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اس لیے میں راستے کی قندیلوں اور چراغوں سے روشنی حاصل کر کے مطالعہ کیا کرتا تھا۔ان حضرات نے دنیا سے بے رغبتی کر کے اپنی اوقات کو علم و حکمت اور مطالعہ کے لیے وقف کر دیا۔اس لیے یہ شخصیات آج تک اپنے علوم و فنون کے ذریعے زندہ و پائندہ ہیں۔موجودہ دور میں کتب خانوں کی بہتات،اور لائبریریوں کی بہترین سہولیات کے باوجود  کتاب دوستی اور علم و مطالعہ کا فقدان ہے۔شاعر نے اس المیہ کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کیا ہے؛

کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

بہر حال! میرے عزیز دوستو! آگے بڑھیے اور مطالعہ و کتاب سے تعلق جوڑنا شروع کیجیے،جہالت کی اس شبِ دیجور میں یہ مطالعہ روشن چراغ ہے جو آپ کو علم و حکمت کا خزینہ و گنجینہ بنا دے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان