نوجوان ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہیں۔نوجوان اور تعلیم و تعلم لازم ملزوم ہیں۔نوجوان اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے ہی اپنی زندگی سدا بہار بنا سکتے ہیں۔کسی بھی ملک کی ترقی و ترویج میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔اسی طرح نوجوانوں کی سستی اور کاہلی کے سبب ملک تنزلی کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ہر انقلاب میں چاہے وہ عالمی ہو یا ملکی ،سیاسی ہو یا سماجی،عسکری ہو یا مذہبی نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔دور حاضر میں انسان نے ایسی ایجادات متعارف کرائی ہیں جنہیں دیکھ کر عقلِ انسانی خیرہ رہ گئی ہے۔اگر کوئی خطہ ابھی تک ان جدید مادی ترقیات سے نا آشنا ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف نوجوان طبقہ میں تعلیم سے دوری ہے۔پندرہ سے پچیس سال تک عمر انتہائی اہم ہوتی ہے،اگر کوئی شخص اس عمر میں  کسی مقصد اور مقام کو حاصل کرنا چاہے تو جلد ہی وہ اسے حاصل کر لے گا۔آج کل آپ مشاہدہ کر لیں ہر ایک شکایات کے قصیدے پڑھ رہا ہے،تعلیم،محنت اور مستقبل سنوارنے کیلیے کوئی تیار ہی نہیں۔کسی دانا کا قول ہے کہ’’اگر تم وہی کرو گے جو تم ہمیشہ کرتے آئے ہو،تو تمہیں وہی ملے گا جو تمہیں ہمیشہ ملتا رہا ہے۔‘‘


ہر دور کے مختلف تقاضے ہوا کرتے ہیں،چنانچہ ہر ایک ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھے۔مستقبل کا فیصلہ مشکل مگر نہایت اہم ہوتا ہے،اس لیے مستقبل کے لائحہ عمل کیلیے سیاسی،سماجی اور معاشرتی حالات سے آگاہی ناگریز ہے۔نوجوانوں کو فنی مہارت اور صنعتی ضرورت میں بھی حصہ لینا چاہیے۔فنی مہارت یعنی کسی پیشہ ورانہ کام میں قابلیت و لیاقت حاصل کرنا ہے۔نوجوان طبقہ فنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنے اہداف کو بہ آسانی حاصل کر سکتا ہے۔دور حاضر میں ہر شخص موبائل اور انٹرنیٹ میں مگن ہے۔جس کی وجہ کئی لوگ تعلیم و تعلم سے نابلد و ناآشنا ہیں۔وطن عزیز کی ساٹھ (60)فیصد آبادی نوجوان نسل پر مشتمل ہے،لیکن تعلیمی شرح انتہائی کمزور ہے۔دنیا ثریا پر جا پہنچی،جبکہ ہم تحت الثریٰ میں پڑے ہوئے ہیں۔دوسری جانب اگر کچھ نوجوان اپنی عمر کا وافر حصہ تعلیم اور ڈگری حاصل کرنے میں صرف کر رہے ہیں تو انہیں یہاں کوئی اہمیت نہیں ملتی۔جس کے سبب بچے کچھے تعلیم یافتہ افراد روزگار کی تلاش میں دوسرے ملک کوچ کر جاتے ہیں۔ارباب حکومت ان کی قدر کریں اور انہیں بہترین سہولیات فراہم کریں تاکہ پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی خدوخال بہتر ہو سکے۔


ہر ایک کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ مستقبل میں ایک اہم اور مثالی شخصیت بن کر ابھرے،ہر جگہ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔یہ خواب و خیال درست ہے مگر یہ اس وقت شرمندہ تعبیر ہوگا جب آپ محنت کریں گے اور اپنی تعلیم میں مستقل مزاجی اختیار کریں گے۔مولانا ابوالکلام آزاد رح فرماتے ہیں!''آج زلزلوں سے ڈرتے ہو کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے،آج اندھیروں سے کانپتے ہو یاد کرو تمہارا وجود ایک اجالا تھا،وہ آخر تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے،پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا،بجلیاں لپکیں تو ان پر مسکرائے، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔"مولانا آزاد رح کے کلام سے یہ امر بخوبی عیاں ہے کہ کسی کو بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے،بلکہ ہر ایک اپنے مقصد اور کامیابی کیلیے سعی کرتا رہا،محنت،جذبے اور مستقل مزاجی کا دامن نہ چھوڑے،پھر ایک دن آپ 
بھی انشاءاللہ کامیاب لوگوں کی صف میں شامل ہو جئیں
 گے


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان