خالق کائنات نے اپنی قدرت کاملہ سے کئی مخلوقات کو وجود بخشا۔بعد ازاں ان میں ہر ایک کو رہن سہن اور رزق روزی کو تلاش کرنے کے طور طریقے بھی سکھلا دیے۔پھر انسان کو ان تمام مخلوقات میں اشرف بنا دیا۔انسانی نسل کو بڑھانے کے لیے اسے مرد و عورت میں تقسیم کر دیا۔اس پر مستزاد یہ کہ ہر ایک کو اپنے احکام و آداب سمجھا دیے۔تاکہ ان پر عمل پیرا ہو کر دنیوی و اُخروی زندگی سنوار سکے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کی ایک خاص شان رکھی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ زندگی گزارنے اور سنوارنے کے لیے مختلف احکام بھی بتلائے ہیں،کہ عورت اگر ان پر عمل کرے تو وہ ایک باوقار زندگی گزار سکتی ہے۔دوسری جانب جہاں بھر میں حقوقِ نسواں کا نعرہ زبان زد ہے۔مغربی دنیا نے دین اسلام کے بارے میں یہ افواہ پھیلا دی ہے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دینے کے بجائے مقید کر دیا ہے۔حالانکہ دونوں نظریات کے مطالعہ سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام نے ہی عورت کو مکمل حقوق فراہم کیے ہیں۔ اسلام کا نقطہ نظر اسلام ہی وہ یکتا مذہب ہے جس نے عورت کو حیوانیت جیسی زندگی سے نکال کر عزت و توقیر عطا کی ہے۔پھر چاہے وہ کسی کی والدہ ہو بیٹی ہو بہن ہو یا بیوی ہو۔والدہ کے بارے میں ...