#اپنے_کردار_و_گفتار_کو_بہتر_بنائیں

تحریر فضل الرحمان جسکانی

بندہ اپنے کردار و گفتار سے جانا جاتا ہے۔ان دونوں کے بغیر آدمی ناقص ہوتا ہے۔کوئی ظاھراً کتنا ہی بد صورت ہو مگر اس کے کردار و گفتار اعلیٰ ہیں تو وہ بین الناس قابل احترام ہوگا۔جبکہ دوسرا یوسف جیسے حسن سے مالا مال ہو مگر کردار و گفتار اچھے نہ ہوں تو وہ نا لائق و نا مراد ہے۔کردار اس طرح سنواریں کہ! اپنا حلیہ و لباس اچھا و صاف ستھرا بنائیں۔


اگر آپ خوش حال ہیں تو عمدہ و اعلیٰ لباس زیب تن کریں،بخل و کنجوسی نا کریں۔کہتے ہیں کہ کسی دانشور سے پوچھا گیا کہ نیک بخت کون ہے اور بد بخت کون ہے؟ دانا نے کہا! جس نے اپنے مال سے کھایا پیا اور اور سخاوت کی وہ نیک بخت ہے۔اور جس نے مال جمع کیا،اس سے نفع اٹھائے بغیر چل بسا وہ ہے بدبخت۔۔


اگر اتنی استطاعت نہیں تو پھر کم از کم صاف ستھرے بن کر رہیں۔۔صاف ستھرے آدمی کو لوگ ایسا چاہتے ہیں جیسے چیونٹی مٹھاس کو۔۔۔

آدمی اپنے لباس سے ہی لوگوں کو مرعوب کرتا ہے،ماہرین نفسیات کے مطابق سب سے پہلے لوگ آپ کے جوتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔۔


صاف و پاک رہنے سے آدمی کئی بیماریوں سے چھٹکارا پاتا ہے۔حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ ! صفائی نصف ایمان ہے۔لھذا اپنے کردار کو اعلیٰ بنائیں۔۔۔

گفتار اس طرح نکھاریں کہ! برمحل و بر جستہ گفتگو کریں۔

زیادہ نہ بولیں۔من سکت نجا۔ایک ہی بات کا ہر جگہ تکرار نہ کریں،اس سے لوگوں کو کراہت ہوتی ہے۔۔۔


سحبان بن وائل عرب دنیا میں بڑے فصیح و بلیغ متکلم گزرے ہیں۔ان کی خوبی تھی کہ وہ ایک بات سال بھر ایک ہی مرتبہ کہتے تھے اگر بوقت ضرورت دہرانی پڑتی تو اس کے الفاظ و جملوں میں تغیر کر کے بولتے تھے۔


وہ کہتے تھے کہ! گویائی ایک نعمت ہے،اس کی قدر کرنی چاہیے۔ایک ہی بات کا تکرار نہیں کرنا چاہیے۔جس طرح حلوے کو بار بار کھانے سے آدمی تنگ ہوتا ہے بولی ہوئی بات کو بھی اسی طرح سمجھ لیں۔۔۔


کہیں بات میں نرمی برتیں تاکہ لوگ آپ کے قیدی بن جائیں اور کہیں سختی کریں تاکہ حد ہی میں رہیں۔۔اتنی نرمی نہ کریں کہ شکر کر کے پی لیں۔۔نہ اتنی سختی کریں کہ کریلے کی طرح تھوک کر پھینک دیں۔۔۔ 



#F_Rehman_Jiskani

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیں اشرف عظیم انسان