اشاعتیں

جون, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
عامر لیاقت انتقال کر گئے  یہ خبر جتنا کہیں اس سے کئ گنا زیادہ افسوسناک ہے کیونکہ ڈآکٹر عامر لیاقت صاحب پاکستان کے شہرت یافتہ شخصیات میں سے ایک ہیں انہوں نے اپنی طرز گفتگو سے صحافیوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا جہاں ان سے کوئی مشکل سوال کیا جاتا وہاں یہ اپنے مزاحیہ انداز میں ایک ایسا جواب دیتے کہ ان کے سامنے موجود شخص کا سوال قہقہوں میں ہی اڑ جاتا اور اپنی ذہانت اور زبان کی تیزی سے اپنے مخالف کو ایک لفظ نہ بولنے دیتے اگر کہوں وہ اپنے مخالف کی بے انتہا تذلیل کرتے تھے تو میں غلط نہ ہوں گا لیکن ان کے انتقال کے بعد اس قوم میں دو فریق ہوگئے ہیں ایک فریق ان کی مدح بیان کرتے ہوئے نظر آرہی ہے اور دوسری فریق ان کی ھجوء بیان کرتے ہوئے نظر آرہی ہے میں بھی کبھی سوچتا ہوں ان کی ھجوء بیان کرنی چاہئے یا مدح  جب میں ان کی مدح کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری نظر سے ان کی ایک پرانی ایسی کلپ گزرتی ہے جس میں وہ معاذ اللہ صحابہ کرام کی معاذ اللہ توہین کرتے نظر آتے ہیں میں ان کی مدح بیان کرنے لگتا ہوں تو مجھے نظر آتا ہے کہ اس شخص نے میرے علماء کی میرے عقیدے کی تذلیل کی ہے میں اس کی مدح بیان کرنا چاہتا ہو...