عامر لیاقت انتقال کر گئے یہ خبر جتنا کہیں اس سے کئ گنا زیادہ افسوسناک ہے کیونکہ ڈآکٹر عامر لیاقت صاحب پاکستان کے شہرت یافتہ شخصیات میں سے ایک ہیں انہوں نے اپنی طرز گفتگو سے صحافیوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا جہاں ان سے کوئی مشکل سوال کیا جاتا وہاں یہ اپنے مزاحیہ انداز میں ایک ایسا جواب دیتے کہ ان کے سامنے موجود شخص کا سوال قہقہوں میں ہی اڑ جاتا اور اپنی ذہانت اور زبان کی تیزی سے اپنے مخالف کو ایک لفظ نہ بولنے دیتے اگر کہوں وہ اپنے مخالف کی بے انتہا تذلیل کرتے تھے تو میں غلط نہ ہوں گا لیکن ان کے انتقال کے بعد اس قوم میں دو فریق ہوگئے ہیں ایک فریق ان کی مدح بیان کرتے ہوئے نظر آرہی ہے اور دوسری فریق ان کی ھجوء بیان کرتے ہوئے نظر آرہی ہے میں بھی کبھی سوچتا ہوں ان کی ھجوء بیان کرنی چاہئے یا مدح جب میں ان کی مدح کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری نظر سے ان کی ایک پرانی ایسی کلپ گزرتی ہے جس میں وہ معاذ اللہ صحابہ کرام کی معاذ اللہ توہین کرتے نظر آتے ہیں میں ان کی مدح بیان کرنے لگتا ہوں تو مجھے نظر آتا ہے کہ اس شخص نے میرے علماء کی میرے عقیدے کی تذلیل کی ہے میں اس کی مدح بیان کرنا چاہتا ہو...